معیاری حلال ذبح کے معیار

شریعت اسلامیہ نے جانوروں کے ذبح کے لیے مخصوص طریقہ وضع کیا ہے۔ذبح کے وقت جانوروں کے ساتھ رحم کا معاملہ اور شرعی ضابطوں کی پابندی کرنا حلال مذبح خانوں کے لیے ضروری ہے۔
۱۔ اگر کھانے پینے کی اشیاء سے ممنوعہ اشیاء کا خلط یا آمیزش ہو جائے تو وہ ناپاک ہوجاتی ہیں۔کسی بھی صورت میں ناپاک چیزیں مثلاً خنزیر،کتے اور ان سے تیار مصنوعات مذبح خانے کے حدود میں داخل نہ ہوں، حلال اور حرام جانوروں کے ذبح کا عمل الگ الگ مقاما ت پر ہونے چاہیے۔مذبح خانہ کا ماحول صا ف، پاک اور ذبیحہ صحت بخش ہو نا چاہیے۔
۲۔ ذبیحہ ایسا جانور ہو جسے شریعت نے مسلمانوں کے لیے حلال کیاہو،(خنزیر وغیرہ مسلمانوں کے لیے حلا ل نہیں ہے)ذبیحہ حلال ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ ذبح کرتے وقت جانور زندہ ہو یا اس میں زندگی کی علامت پائی جاتی ہو۔جانور کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہو، دیگر مقاصد مثلا غیراللہ اور رسومات وغیرہ کے لیے ذبح نہ کیا گیاہو۔
۳۔ (الف)ذبح کرنے والا عاقل و بالغ مسلمان ہو جو اسلامی طریقے پر جانوروں کے ذبح کرنے کی صلاحیت رکھتاہو۔ (ب) ْمذبح خانے معتبر ہوں اور مستند اسلامی تنظیموں کی نگرانی میں چل رہے ہوں۔ (ج) ذبح کرتے وقت اللہ کانام لیا گیا ہو،(ذبح سے قبل بسم اللہ اللہ اکبر کہا جائے) (د) اس بات کی تحقیق کرلی جائے کہ کہیں ذبح کیا جانے والا جانور اسٹننگ یعنی سن کیے جانے کی وجہ سے مر تو نہیں گیا ہے؟ (س)اگر سن کیے جانے کی وجہ سے مرگیا تو وہ حلال نہیں ہو گا۔(ط) ذبح سے قبل جانور کو اچھی طرح کھلا پلا دینا چاہیے۔ (ع) ذبح کے لیے تیز اور دھار دار چھری کا استعمال کرنا چاہیے۔