مشکوک چیزیں

بعض چیزیں ایسی ہیں جن کا حرام اور حلال ہونا واضح ہے۔لیکن بعض ایسی بھی چیزیں ہیں جن کے بارے میں فیصلہ کرنا مشکل ہے،کیوں کہ شرعی فیصلے ان کے بارے میں مبہم ہیں۔ان چیزوں کو مشبوہ یا مشکوک کہا جا تا ہے۔اس سلسلے میں کھانے کی چیزوں میں ملائے جانے والے مادے بطور مثال کے پیش کیے جا سکتے ہیں،مثلا انزائم،جلاٹین، شیرہ وغیر ہ جنہیں جانوروں اور پودوں سے حاصل کیا جا تا ہے۔یہ ایسی چیز ہے جسے ہم روزمرہ کی ضروریا ت میں استعمال کر تے ہیں،اب سوال یہ ہے کہ جس جانور سے یہ مادہ لیا گیا ہے وہ شرعی طورسے ذبح کیا گیا تھا یا نہیں؟ اگر وہ مذبوح شرعی تھا تو اس کا استعمال صحیح ہے ورنہ وہ کھانے جس میں غیر شرعی جانور سے حاصل کی گئی مادہ کی آمیزش ہو، وہ حرام قرار دیا جائے گا۔
بعض اوقات ان ملا وٹ سے تیار چیزوں کے حصول کے ذرائع نامعلوم ہوتے ہیں۔اس لیے ا س کے بارے میں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے،ایک صحیح العقیدہ اور پاکیزہ مسلمان کی ذمہ داری ہے وہ مشتبہ چیزوں سے پر ہیز کرے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں اس کی مثالیں ملتی ہیں، ذیل کی حدیث ا س سلسلے میں رہنمائی کرتی ہے۔
”حلال کیا ہے وہ بھی واضح ہے اور حرام کیا ہے وہ بھی واضح ہے،ان کے درمیان چند ایسی چیزیں ہیں جن کے بارے میں لوگ نہیں جانتے کہ حرام ہے یا حلال ہے۔جو ایسی چیزوں سے دور رہتا ہے وہ اپنے دین و ایمان کی حفاظت کرتاہے،اور جو ایسی چیزوں سے قریب ہو تا ہے، وہ حرام کے بہت ہی قریب ہے، اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جوشاہی چراہ گاہ کے قریب چکر کاٹ رہا ہے، اتنا قریب ہے کہ اس بات کا خطرہ ہے کہ وہ محفوظ علاقہ میں چلا جائے،یقینا بادشاہ کے لیے ایک مخصوص علاقہ ہے،اللہ ہی (غلط چیزوں) سے منع کرتاہے۔“