ذبح سے قبل جانور کوسن کرنے کا عمل

مسلمانوں اور غیر مسلمو ں کے درمیان اس بات کاعام رجحا ن بڑھ رہا ہے کہ روایتی طریقے سے محض چاقو سے جانور کی گردن کاٹ دینا ظلم ہے۔ اسی کے پیش نظر سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس زمانے میں ایسے طریقہ کار اختیار کیے جا رہے ہیں جن میں جانور کو کم سے کم تکلیف ہواور ساتھ ساتھ جانور کو حلال طریقے سے ذبح بھی کر دیا جائے۔ان میں سے ایک معروف طریقہ ذبح سے قبل جانور کو سن کرنے کا عمل ہے۔(ان میں بہت سے طریقے ایسے ہیں جو غیر اسلامی ہیں اور ان سے جانور حلال بھی نہیں ہو تے ہیں) لہذا اسے قابل قبول بنانے کے لیے درج ذیل شرائط کا لحا ظ کرنا ضروری ہے۔
۱۔سن کرنے والے آلے کا استعمال کسی مسلم سپروائزر یا حلال کی تصدیق کرنے والے شخص کی نگرانی میں ہو نا چاہیے۔
۲۔جانور کو صرف عارضی طور سے بے سن کرنا چاہیے،ایسا طریقہ قطعا اختیار نہیں کرنا چاہیے جس سے موت واقع ہو نے کا اندیشہ ہو یا جانور کو دائمی زخم لاحق ہو۔
۳۔جوآلے خنزیر کو سن کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں وہ حلال جانوروں کے لیے استعمال نہ کیے جائیں۔
۴۔بجلی کی کرنٹ کے جھٹکے سے سن کرنے کا ایک رائج عمل وہ ہے جو دماغ پر اثر ڈالتا ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ دماغ پر کرنٹ رکھا جا تا ہے۔یہ اس صورت میں صحیح ہے جب کہ یہ عمل دل و دماغ کے حرکت کو بند نہ کردے یا جانور کی موت کا سبب نہ بن جائے۔
۵۔مشینی آلات (جیسے ہتھوڑے یا پستول کے ذریعے سے دماغ پر مارنا) سے سن کرنے کاعمل صرف چوپایوں اور بھینس پر ہی کیا جا سکتاہے۔ یہ بھی اس صورت میں ہے جب کہ اندر تک نہ داخل ہونے والے آلات ہی استعما ل کیے جائیں۔
۶۔سن کرنے والے آلات نہ تو سر میں داخل ہو ں اور نہ اسے توڑ ڈالے۔ایسا ضرب نہ ہو کہ اس کا زخم دائمی ہو جائے۔
۷۔چمڑا ادھیڑنے کے بعد جانور کی کھوپڑی کا جائزہ لیا جائے کہ کہیں چوٹ دائمی تو نہیں لگی تھی،اگر یہ دریافت ہوجائے کہ آلات نے سر توڑ دیے تھے یاسر میں داخل ہو گیے تھے،تو مذبوحہ کوغیر حلال قرار دیا جائے گا۔
۸۔ذبح سے قبل مرغ کو بجلی کے کرنٹ والے پانی میں صرف غوطہ دینے کی اجازت ہے۔